Sunday, 2 May 2021

اس آنکھ میں اک اشک بھی دیکھا نہیں جاتا

 اس آنکھ میں اک اشک بھی دیکھا نہیں جاتا

اور حالِ دلِ زار بھی پوچھا نہیں جاتا

میں جس کے لیے راہ میں بیٹھی ہوں مِرے دل

وہ شخص کسی بزم میں تنہا نہیں جاتا

آ تجھ کو ملا دوں میں چراغوں سے ہوا اب

غم مجھ سے تِرا اور یہ دیکھا نہیں جاتا

یہ آب و ہوا بھی تو مسافر کی طرح ہیں

منزل کو کبھی چھوڑ کے رستہ نہیں جاتا

اے شہر کی گلیوں میں مجھے ڈھونڈنے والو

اب گھر سے کسی سمت بھی نکلا نہیں جاتا

تب تک کے لیے ہم بھی پہیلی کی طرح ہیں

جب تک کہ ہمیں ٹھیک سے سمجھا نہیں جاتا

زہرا یہ مِری عمر ہواؤں کی طرح ہے

جتنا بھی اسے روک لو روکا نہیں جاتا


زہرا بتول

No comments:

Post a Comment