میری جب اس سے آشنائی تھی
میرے ہمراہ اک خدائی تھی
گردشِ وقت اس کی شاہد ہے
آسماں تک مِری رسائی تھی
یاد کر میرا ساتھ دینے کی
تُو نے میری قسم اٹھائی تھی
کیسا لمحہ تھا جب غزل میری
زیرِ لب تُو نے گنگنائی تھی
سچ تو یہ ہے سبین گھر میں مِرے
آگ اپنوں نے ہی لگائی تھی
ثبین سیف
No comments:
Post a Comment