Tuesday, 22 June 2021

لگتا تھا جس طرح کوئی سنسار سے اٹھا

 لگتا تھا جس طرح کوئی سنسار سے اُٹھا

روتے بلکتے جب میں درِ یار سے اٹھا

بے حال ہو کے رہ گئے وہ بارِ عشق سے

اتنا سا بوجھ بھی نہیں سرکار سے اٹھا

اس مسئلے پہ کیوں نہ ذرا غور پھر کریں

وہ مسئلہ جو آپ کے انکار سے اُٹھا

دھمکا کے مجھ کو تُو نہ اُٹھا پائے گا کبھی

بندہ ہوں پیار کا میں مجھے پیار سے اٹھا

شاہیں جہان پر سے یقیں اٹھ گیا مِرا

میرا ہی یار جب صفِ اغیار سے اٹھا


شاہین بیگ

No comments:

Post a Comment