لگتا تھا جس طرح کوئی سنسار سے اُٹھا
روتے بلکتے جب میں درِ یار سے اٹھا
بے حال ہو کے رہ گئے وہ بارِ عشق سے
اتنا سا بوجھ بھی نہیں سرکار سے اٹھا
اس مسئلے پہ کیوں نہ ذرا غور پھر کریں
وہ مسئلہ جو آپ کے انکار سے اُٹھا
دھمکا کے مجھ کو تُو نہ اُٹھا پائے گا کبھی
بندہ ہوں پیار کا میں مجھے پیار سے اٹھا
شاہیں جہان پر سے یقیں اٹھ گیا مِرا
میرا ہی یار جب صفِ اغیار سے اٹھا
شاہین بیگ
No comments:
Post a Comment