دل میں آنے جانے کے اور بھی طریقے ہیں
تشنگی بڑھانے کے اور بھی طریقے ہیں
کس نے کہہ دیا صاحب چاند ہی ضروری ہے
رات جگمگانے کے اور بھی طریقے ہیں
کیا بہت ضروری ہے قتلِ عام لوگوں کا
انقلاب لانے کے اور بھی طریقے ہیں
کیوں تباہ کرتے ہو لہلہاتے کھیتوں کو
بستیاں بسانے کے اور بھی طریقے ہیں
کیوں یہ برف سا لہجہ، کیوں یہ آتشیں نظریں
فاصلے بڑھانے کے اور بھی طریقے ہیں
یوں نقاب کرنا بھی ٹھیک ہے تِرا، لیکن
بجلیاں گرانے کے اور بھی طریقے ہیں
پیار کرنے والوں کی جان تو نہیں لیتے
یار، آزمانے کے اور بھی طریقے ہیں
عارفی نہیں ہوتی عشق و عاشقی لازم
تہمتیں کمانے کے اور بھی طریقے ہیں
اسلم عارفی
No comments:
Post a Comment