تمہارا ساتھ مجھے دو گھڑی میسر ہو
بس ایک پل کو سہی زندگی میسر ہو
مِرے بدن کی اذیت تمام ہو جائے
جو تیرے لمس کی آسودگی میسر ہو
"اس ایک پل میں زمانہ گزار سکتی ہوں"
جس ایک پل تِری موجودگی میسر ہو
ہزار جان سے قربان جائے وہ ،جس کو
تِرا جمال، تِری دلکشی میسر ہو
ہر ایک شخص تِرے ہاتھ پہ کرے بیعت
تمام شہر کو دیوانگی میسر ہو
دکھاؤں گی تجھے عالم جنون خیزی کا
ذرا سی شوق کو آوارگی میسر ہو
عجیب ہوں کہ مجھے روشنی سے وحشت ہے
میں چاہتی ہوں مجھے تیرگی میسر ہو
یہ آگہی تو نہیں ہے کوئی اذیت ہے
خدا کرے نہ کسی کو کبھی میسر ہو
یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے عبادت کا
تجھے خدا تو مجھے بندگی میسر ہو
حنا کوثر
No comments:
Post a Comment