میں یہ کہتی ہوں کہ
وہ ایسا حل نکالے
پہلے مجھے یا پھر مجھے
دل کے ساتھ ساتھ شہر سے بھی نکالے
اس کے نام سے منسوب جو رُسوائی ملے
یہ بھی خُوش نصیبی ہے
کہ یہ قُرعہ میرے نام نکلے
بعد اس کے ریگزاروں پر
یا پھر کسی وادی یا پہاڑوں پر
کوئی قہقہہ کوئی چیخ سُنائی دے
اور منظر میں کوئی بھی دکھائی نہ دے
مریم ناز
No comments:
Post a Comment