Saturday, 24 July 2021

ملتا ہے کب مقام جنوں کے حساب سے

 ملتا ہے کب مقام جنوں کے حساب سے

سینے سے انتقام سکوں کے حساب سے

دیوار سازشوں میں لگی رہتی ہے، مگر

چھت ڈالتا ہے بوجھ، ستوں کے حساب سے

رکتی نہیں نظر، تو کہیں رک ہی جاتی ہے

میں حُسن دیکھتا ہوں، فسُوں کے حساب سے

چادر وہی ہے عاجزی والی وجود پر

پھیلا ہوں میں غرور میں کیونکہ، حساب سے

اک خواب آئینہ تھا مِرے سامنے، سو میں

تھرّا رہا تھا حال زبوں کے حساب سے

اجداد کے گناہ سفر میں ازل سے ہیں

بٹتی ہے سب میں تیرگی خوں کے حساب سے

اسود تمام ہوتی نہیں شام، صبح تک

ہوتی ہے مجھ میں رات دروں کے حساب سے


بلال اسود

No comments:

Post a Comment