Thursday, 19 August 2021

وہ کون سا تھا تیر جو دل پر نہ لگایا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 وہ کون سا تھا تیر جو دل پر نہ لگایا

مشکیزے کے پانی سے سوا خون بہایا

یہ نرغہ تھا جو شمر نے حیلے سے سنایا

عباسؑ بچو غول کمیں گاہ سے آیا

مڑ کر جو نظر کی خلف شیر خدا نے

شانوں کو تہہ تیغ کیا اہل جفا نے


لکھا ہے کہ ایک نخل رطب تھا سر میداں

ابن ورقہ زید لعیں اس میں تھا پنہاں

پہنچا جو وہاں سرو روان شہ مرداں

جو شانہ تھا مشک و علم و تیغ کے شایاں

وار اس پہ کیا زید نے شمشیر اجل سے

یہ پھولی پھلی شاخ کٹی تیغ کے پھل سے


مشک و علم و تیغ کو بائیں پہ سنبھالا

اور جلد چلا عاشق روئے شہ والا

پر ابن طفیل آگے بڑھاتان کے بھالا

برچھی کی انی سے تو کیا دل تہہ و بالا

اور تیغ کی ضربت سے جگر شاہ کا کاٹا

وہ ہاتھ بھی فرزند یداللہ کا کاٹا


سقے نے کئی بانہوں پہ مشکیزہ کو رکھ کر

مانند زباں منہ میں لیا تسمہ سراسر

ناگاہ کئی تیر لگے آگے برابر

اک مشک پہ اک آنکھ پہ اور ایک دہن پر

مشکیزے سے پانی بہا اور خوں بہا تن سے

عباسؑ گرے گھوڑے سے اور مشک دہن سے


گر کر لب زخمی سے علمدار پکارا

کہہ دو کوئی پیاسوں سے کہ سقا گیا مارا

سن لی یہ صدا شاہِ شہیداں نے قضا را

زینبؑ سے کہا؛ لو نہ رہا کوئی ہمارا

اصغرؑ کا گلا چھد گیا، اکبرؑ کا جگر بھی

بازو بھی مِرے ٹوٹ گئے اور کمر بھی‎


مرزا دبیر

No comments:

Post a Comment