عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام مرثیہ
کیوں نہ سر خم ہو یہاں صدقۂ سر دینے میں
ما سوا اس کے ہے کیا لائقِ در دینے میں
وادئ روح میں پھیلی ہوئی نکہت ہے محو
آمدِ جانِ بہاراں کی خبر دینے میں
اک ضیا چاہیے الطافِ مہِ طیبہ کی
شبِ امید کو آغوشِ سحر دینے میں
اپنے تو اپنے، ہے غیروں پہ نوازش ان کی
کچھ کمی کرتے نہیں خیرِ بشر دینے میں
زیرِ دامانِ شہِﷺ ارض و سما پاؤں جگہ
در بدر پھرتے ہوئے شوق کو گھر دینے میں
تیرے عشاق کو مل جاتی ہے معراجِ حیات
جان قربان ترے نام پہ کر دینے میں
رونقِ دہر اٹھا لیتی ہے ڈیرے فردوس
دل کو بطحا کی طرف راہگزر دینے میں
فردوس فاطمہ اشرفی
No comments:
Post a Comment