Wednesday, 18 August 2021

نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسین

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسینؑ 

دم ایک اور ہے اب میہماں امام حسین 

چراغِ آخرِ شب ہے گا یاں امام حسین 

سحر نمود ہوئی پر کہاں امام حسین 


فلک نکالی نئی گردش اب کے اے خوں خوار 

کہ قتل ہوتے ہیں ابنِ علیؑ کے خویش و تبار 

ہوئی ہے اول مہ میں کچھ اور لیل و نہار 

گھٹے ہے بدر نمط ہر زماں امام حسین


سفر مدینے سے گویا کہ تھا بلا کا سرا 

قدم جو راہ میں رکھا تو ہائے پھر نہ پھرا 

ملا نہ قطرۂ آب اور لوہو اس کا گِرا 

ہوا تھا کس گھڑی واں سے رواں امام حسین 


تمہارے لطف سے خاطر میں میرؔ کے ہے نہاں 

کہ روز حشر کو ہووے رکاب ہی میں رواں 

صف نعال جوانان کربلا ہو جہاں 

ملے اسے بھی اسی جا مکاں امام حسین 


میر تقی میر

No comments:

Post a Comment