Saturday, 21 August 2021

ہم ایسے صاحب دل ہیں کہ جام جم نہیں رکھتے

 ہم ایسے صاحبِ دل ہیں کہ جامِ جم نہیں رکھتے

مگر حالاتِ دنیا کی خبر کچھ کم نہیں رکھتے

وہ جس سے دشمنی ہو اس سے دشمن بن کے ملتے ہیں

عداوت کو چھپا کر اپنے دل میں ہم نہیں رکھتے

کریں گے دوسروں کو کس طرح حلقہ بگوش اپنا

ابھی جو اپنے مسلک پر یقیں محکم نہیں رکھتے

وہ کیسے ہو سکیں گے واقفِ آدابِ مے نوشی

جو اپنے دل کے ساغر میں شرابِ غم نہیں رکھتے

ہمارے زخمِ جاں پر آپ کو تشویش ہے، لیکن

ہمارے زخمِ جاں پر آپ کیوں مرہم نہیں رکھتے

ہمارے شہرِ دل کا حال تو چہرے پہ لکھا ہے

چھپا کر اپنے اندر کا کوئی عالم نہیں رکھتے

سفر درپیش ہو شاہد جنہیں شامِ تمنا کا

چراغِ آرزو کی لو کبھی مدھم نہیں رکھتے


حفیظ شاہد

No comments:

Post a Comment