خسارہ در خسارہ کر رہے ہیں
محبت ہم دوبارہ کر رہے ہیں
ابھی دریا میں اترے ہی کہاں ہیں
ابھی سے سب کنارہ کر رہے ہیں
ہمیں وہ چھوڑ کر اپنائیں کس کو
یہی تو استخارہ کر رہے ہیں
تمہارے ساتھ جو بیتا، تھا جیون
ابھی تو بس گزارہ کر رہے ہیں
ہوئی بربادیوں کی سمت سارے
انہیں شاید اشارہ کر رہیں
محبت ہے تبھی تو ہم تمھاری
سبھی باتیں گوارا کر رہے ہیں
ہماری مانتا ہی اب کہاں ہے
میاں یہ دل تمہارا کر رہے ہیں
کوئی تو کام ہم کو بھی دکھاؤ
بھلا جس میں ہمارا کر رہے ہیں
خیالوں میں ہےاک چنچل سی لڑکی
وہ جس کا ہم نظارا کر رہے ہیں
محبت کب تلک ہے ساتھ دیتی
کسے اپنا سہارا کر رہے ہیں
اُسے بس آخری آواز دے کر
محبت کا نتارا کر رہے ہیں
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment