وجہ یہ بھی بچھڑنے کی بنی تھی
ہماری خاندانی دشمنی تھی
اسے چھوڑا نہیں جاتا ہے باہر
خبر یہ آخری میں نے سنی تھی
اندھیروں میں دِکھاتی تھی وہ رستہ
وہ لڑکی چاندنی تھی، روشنی تھی
جب آنکھیں کھولتی تھی چُوم کر لب
ان آنکھوں کی چمک بھی دِیدنی تھی
میں جس شب گھر نہیں لوٹا تھا حمزہ
عجب سی گاؤں میں اک سنسنی تھی
حمزہ سواتی
No comments:
Post a Comment