Monday, 20 September 2021

یہ کس طرح کے ملے خواب میں اشارے مجھے

 یہ کس طرح کے ملے خواب میں اِشارے مجھے

وہ جیسے دُور بہت دُور سے پُکارے مجھے

تم اس کو میری ضرورت کہو یا ضد کہہ لو

بگڑ گیا ہوں، کوئی آن کے سنوارے مجھے

میں کر چکا ہوں محبت کے نام سے توبہ

میں مر چکا ہوں، کوئی دار سے اتارے مجھے

یہ انتظار کا دریا،۔ وفا کا شہر اُدھر

بٹھا کے بُھول گیا ہے کوئی کنارے مجھے

بس اک نظر پہ خیالوں کے سلسلے برہم

یہ رنگ ڈھنگ ہی بھاتے نہیں تمہارے مجھے


بہزاد برہم

No comments:

Post a Comment