Tuesday, 21 September 2021

وہ لفظوں کی شہزادی

 لفظوں کی شہزادی 


وہ لفظوں کی شہزادی

جادوئی محل کی اونچی دیواروں کے پیچھے

قیدِ تنہائی میں لفظوں کو بُنتی

تخیل کے پیراہن بناتی

ان پر اپنی قید کے نوحے لکھتی

اپنے منتظر لب ان نوحوں پر رکھتی

پھر انہیں محل کے اونچے روشندان سے

ہوا کو تاکید کے ساتھ سپرد کر دیتی

بوجھل ہوا نے نہ جانے کتنے سندیسوں کو

خاموش وادیوں میں پہنچایا

شفاف چشموں میں بہایا

پھر ایک دن

رہائی کا پروانہ لیے

شہزادی کا بھیجا سندیسہ تھامے

داد و تحسین کا عادی ایک شہزادہ

مدتوں سے قید شہزادی کو لینے آن پہنچا

محل کےآہنی دروازے سے صدا لگائی

اپنی آواز شہزادی کو سنائی

بے قرار ہو کر شہزادی کی آواز سننا چاہی

مگر آواز ندارد

شہزادی اپنی آواز کھو چکی تھی

وہ مدتوں سے نوحے لکھنے والی

اتنے عرصے میں صرف لفظ لکھتی رہی

اب ان لفظوں کو بولنا بھول چکی تھی


لبنیٰ مقبول غنیم

No comments:

Post a Comment