بڑے سلیقے سے اس کو جدا کیا میں نے
پھر اس کے بعد یہ سوچا کہ کیا کِیا میں نے
رکھا منڈیر پہ ٹُوٹا ہوا دِیا کوئی
پھر انتظار تِرا بے بہا کیا میں نے
تمہاری یاد کا پنچھی جب آ گیا اُڑ کر
قفس سے ایک پرندہ رہا کیا میں نے
یہ اور بات کہ تُو نے ابھی ابھی دیکھا
اشارہ ورنہ کئی مرتبہ کیا میں نے
جو دھوپ تیز ہوئی میں نے تجھ کو سوچ لیا
تِرا خیال چُنا اور ردا کیا میں نے
مِرے بدن سے اندھیرے کی دُھول چھٹنے لگی
جو دل کے داغ کو روشن ذرا کِیا میں نے
میں اپنے قول کا پکا رہا ہمیشہ اویس
کسی حریف سے جو بھی کہا، کیا میں نے
اویس احمد
No comments:
Post a Comment