سمندر سخی ہے
دوستوں نے مجھے
ایک دن میری نظموں سے اغوا کیا
اور لے جا کے گہرے سمندر میں
(زندہ ہی) دفنا دیا
سمندر کے نیچے
بہت خوبصورت زمیں تھی
وہاں شارکوں، اژدہوں، کیکڑوں نے
کئی سال میری مدارات کی
(دن ڈھلے جل پری کا تماشا بھی ہوتا رہا)
شاعری بھی ہوئی
جل پری کو سخن کا بہت شوق تھا
ایک دن وہ مجھے لے اڑی
اک جزیرے پہ لے جا کے
اس نے مِرے دل کو زندہ کیا
دل کے اندر کوئی اور تھا
اس نے مجھ کو زمیں کے حوالے کیا
ہجر و ہجرت کی سوغات دیتے ہوئے
مہرباں نے مجھے
اس کو تقسیم کرنے کا حق بھی دیا
آپ بھی لیجیۓ
اور اچھی لگے تو
کسی دوسرے کی طرف بھیجیۓ
کم لگے تو سمندر کی جانب چلے جائیے
سمندر سخی ہے
فیصل عجمی
No comments:
Post a Comment