Saturday, 2 October 2021

مجھ سے یہ پیاس کا صحرا نہیں دیکھا جاتا

 مجھ سے یہ پیاس کا صحرا نہیں دیکھا جاتا

روز اب خواب میں دریا نہیں دیکھا جاتا

ظرف کا عکس کہیں اور ہی چل کر دیکھیں

آئینوں میں تو یہ چہرہ نہیں دیکھا جاتا

تُو ہنسی لے کے مِری آنکھ کو آنسو دے دے

مجھ سے سُوکھا ہوا دریا نہیں دیکھا جاتا

دل کے اوراق کی تحریر پڑھی جاتی ہے

ان کے دربار میں سجدہ نہیں دیکھا جاتا

پُرسشِ غم کی سبھی رسم ہیں باقی لیکن

ان چراغوں میں اُجالا نہیں دیکھا جاتا

اہمیت جہدِ مسلسل کی نہیں کم حامد

صرف تقدیر کا لکھا نہیں دیکھا جاتا


حامد مختار

No comments:

Post a Comment