مِری بے چارگی کا کچھ تو چارا بن گیا یارو
مجھی سے ملنے کا وعدہ سہارا بن گیا یارو
کہانی میں جہاں پر نفرتوں کے تھے بھنور سارے
وہاں پر بھی محبت کا کنارا بن گیا یارو
جسے تنکا سمجھ کے میں نے دریا میں بہایا تھا
بھنور میں آج حیرت ہے سہارا بن گیا یارو
پرندوں کو اندھیرے میں سدا رستہ دکھاتا تھا
فلک پر جا کے وہ جگنو ستارا بن گیا یارو
لبوں کو تھر تھرایا تھا اسے الفت جتانے کو
سبب ترکِ تعلق کا اشارا بن گیا یارو
اویس قرنی
No comments:
Post a Comment