یادِ ماضی میں کبھی یہ دل جو کھونے لگ گیا
آنکھ میں منظر جدائی کے چبھونے لگ گیا
مسکرا کر بانٹتا تھا جو کبھی خوشیاں وہ شخص
چھوٹی چھوٹی بات پر پلکیں بھگونے لگ گیا
وہ بھی اب غیروں کا ہو کر خوش نظر آتا ہے اور
میں بھی شاید ہوں کسی کا اب تو ہونے لگ گیا
آنکھ سے اوجھل ہوا تو مل نہ پائے گا کبھی
خوف پھر سے کیوں مِرے دل میں سمونے لگ گیا
وہ بھی دِن تھے رات بھر روتا تھا سو پاتا نہ تھا
صد عنایت اے تھکن کہ میں بھی سونے لگ گیا
اک پرانی ڈائری میں خون سے لکھے گئے
فون نمبر پر نظر پڑتے ہی رونے لگ گیا
دیکھنا، دل کو تسلی اور سکوں ہو گا تِرے
بوجھ غم کا تُو بھی گر اوروں کے ڈھونے لگ گیا
حکم صادر ہے ہُوا کہ مجھ کو ہنسنا ہے، سو میں
غم کی مالا میں ہوں کاشف سُکھ پرونے لگ گیا
کاشف رانا
No comments:
Post a Comment