عشق جب ساتھ چلا، شاملِ تدبیر ہوا
حوصلہ بڑھتے ہوئے صورتِ شمشیر ہوا
رنگ کاغذ سے بہت دیر تلک اُلجھے رہے
دُکھ بہت بعد میں جا کر کہیں تصویر ہوا
قیس والوں سے مجھے صرف یہی پوچھنا تھا
کیا کبھی دشت زدہ صاحبِ توقیر ہوا؟
ہجر کی قید ہی اب میرا مقدر ٹھہری
یعنی زِندان میرے واسطے تعمیر ہوا
داستاں پڑھ کے ہی اندازہ ہوا ہے کیسے
قیس، لیلٰی کے طلسمات میں تسخیر ہوا
تُو نے قرطاس کو ہمراز بنایا ہے کشف
کیا کوئی درد کبھی قابلِ تحریر ہوا؟
کشف ناز
No comments:
Post a Comment