عشق میں قافلہ سالار نہیں چاہیۓ ہے
یہ تو دیوار ہے دیوار نہیں چاہیۓ ہے
یہ تو سنتی ہے فقط درہم و دینار کی بات
یہ ہے دنیا، اسے کردار نہیں چاہیۓ ہے
کہہ دیا ہے کہ محبت کی ضرورت ہے سو ہے
ہم کو اس باب میں تکرار نہیں چاہیۓ ہے
ہم تو اپنے ہی کسی دھیان میں بیٹھے ہوئے ہیں
کھینچ لو، سایۂ دیوار نہیں چاہیۓ ہے
ہم سے مت اتنی مروت سے ملا کر مظہر
چاہیۓ یار، اداکار نہیں چاہیۓ ہے
مظہر سید
No comments:
Post a Comment