ایک لامحدود
کلائی پر بندھے
اوقاتِ بے مصرف کے آلے کو
تلائی کے تلے رکھا
ہتھیلی گال کے نیچے کشادہ کی
سرہانہ سر کے نیچے سے اٹھا کر
سر پہ رکھا
دونوں گُھٹنے پیٹ سے جوڑے
غمِ دنیا کے دفتر کو سمیٹا
راحتِ محدود کا عادی بدن
بستر پہ چھوڑا
ایک لامحدود میں پہنچا
جہاں ہر چیز ممکن ہے
احمد حسین مجاہد
No comments:
Post a Comment