Friday, 1 October 2021

جب میں جوان تھا اور خوبرو تھا

 دور افتادہ شہر میں اجنبی


جب میں جوان تھا اور خوبرو تھا

گلاب کا پھول میرا گھر ہوا کرتا تھا اور

چشمے میرے لیے سمندر تھے

گلاب کا پھول ایک زخم بن گیا

چشمے پیاس میں تبدیل ہو گئے

’کیا تم بہت بدل گئے ہو؟‘

’نہیں، اتنا نہیں‘

جب ہم آندھی کی صورت واپس اپنے گھر لوٹیں گے

میرے ماتھے کو غور سے دیکھنا

گلاب کا پھول کھجور بن گیا ہو گا اور چشمے پسینہ

اور تم مجھے ویسا ہی پاؤ گے 

جیسا میں پہلے ہوا کرتا تھا

جوان اور خوبرو


شاعری محمود درویش 

اردو ترجمہ انور سن رائے

No comments:

Post a Comment