دور افتادہ شہر میں اجنبی
جب میں جوان تھا اور خوبرو تھا
گلاب کا پھول میرا گھر ہوا کرتا تھا اور
چشمے میرے لیے سمندر تھے
گلاب کا پھول ایک زخم بن گیا
چشمے پیاس میں تبدیل ہو گئے
’کیا تم بہت بدل گئے ہو؟‘
’نہیں، اتنا نہیں‘
جب ہم آندھی کی صورت واپس اپنے گھر لوٹیں گے
میرے ماتھے کو غور سے دیکھنا
گلاب کا پھول کھجور بن گیا ہو گا اور چشمے پسینہ
اور تم مجھے ویسا ہی پاؤ گے
جیسا میں پہلے ہوا کرتا تھا
جوان اور خوبرو
شاعری محمود درویش
اردو ترجمہ انور سن رائے
No comments:
Post a Comment