معجزہ یہ کبھی تو ہو جائے
تُو میری جستجو میں کھو جائے
چشمِ بینا وہی تو ہوتی ہے
دُکھ پہ جو ہر کسی کے رو جائے
آگہی کے عذاب تھوڑے ہیں
بے ضمیری کبھی بھی سو جائے
ہجر والوں پہ ہنس رہے ہو میاں
اور اپنا کوئی جو کھو جائے
بے وفا کو یوں بددعا دی ہے
عشق ہم سے ہی تجھ کو ہو جائے
لامعہ شمس
No comments:
Post a Comment