ایسا نہیں کہ تیرے طلبگار ہم نہ تھے
لیکن سکون جان! تیرے یار ہم نہ تھے
خود ہی تو مانگتے تھے رہائی اسیر سے
ہاں بے ضرر سہی پر گرفتار ہم نہ تھے
ہوتی تھی کس حسین کی مدح سرائیاں
پہلو نشین تھے، تیری گفتار ہم نہ تھے
مسکن تمہارے دل کا سجاتے تھے روز و شب
گویا پناہ گزین تھے، معمار ہم نہ تھے
ہم خاک کے پتلوں میں وفا ڈھونڈ رہے تھے
بے کار تھے لیکن کبھی عیار ہم نہ تھے
لامعہ شمس
No comments:
Post a Comment