Wednesday, 20 October 2021

جانئے پھر کیوں ہمیں قرار نہیں ہے

 جانیۓ پھر کیوں ہمیں قرار نہیں ہے

جبکہ کسی کا بھی انتظار نہیں ہے

چہرۂ آفاق پر وہ چھائی اداسی

کون ہے جو آج سوگوار نہیں ہے

یا تو محبت ہے اک فریبِ گزشتہ

یا کہیں، امروز میں وہ پیار نہیں ہے

باغ جہاں میں ہوا تو ایک گل ایسا

قرب میں جس گل کے کوئی خار نہیں ہے

موت کی چاہت محال وقت کا آشوب

جس پہ لٹک جائیے وہ دار نہیں ہے

کھوؤں تو اب کب تلک وقارِ لفافہ

کیا مِرا حال اس پہ آشکار نہیں ہے

اک دلِ حسرت زدہ پر زخم ہیں اتنے

جن کے لیے ہندسۂ شمار نہیں ہے


اصغر علی شاہ

No comments:

Post a Comment