جانیۓ پھر کیوں ہمیں قرار نہیں ہے
جبکہ کسی کا بھی انتظار نہیں ہے
چہرۂ آفاق پر وہ چھائی اداسی
کون ہے جو آج سوگوار نہیں ہے
یا تو محبت ہے اک فریبِ گزشتہ
یا کہیں، امروز میں وہ پیار نہیں ہے
باغ جہاں میں ہوا تو ایک گل ایسا
قرب میں جس گل کے کوئی خار نہیں ہے
موت کی چاہت محال وقت کا آشوب
جس پہ لٹک جائیے وہ دار نہیں ہے
کھوؤں تو اب کب تلک وقارِ لفافہ
کیا مِرا حال اس پہ آشکار نہیں ہے
اک دلِ حسرت زدہ پر زخم ہیں اتنے
جن کے لیے ہندسۂ شمار نہیں ہے
اصغر علی شاہ
No comments:
Post a Comment