Tuesday, 23 November 2021

زندگی تیرے عجب ٹھور ٹھکانے نکلے

 زندگی تیرے عجب ٹھور ٹھکانے نکلے

پتھروں میں تِری تقدیر کے دانے نکلے

درد ٹیس اور جلن سے ہیں ابھی ناواقف

زخم جو بچے ہتھیلی پہ اگانے نکلے

میں تو ہر شے کا خریدار ہوں لیکن وہ آج

اتنی جرأت کہ مِرے دام لگانے نکلے

نئی تحقیق نے قطروں سے نکالے دریا

ہم نے دیکھا ہے کہ ذروں سے زمانے نکلے

تلخ جملوں کے کہاں تیر خطا ہو پائے

دیکھنے میں تو غلط اس کے نشانے نکلے

ذہن میں اجنبی سمتوں کے ہیں پیکر لیکن

دل کے آئینے میں سب عکس پرانے نکلے

دے نہ پایا وہ کوئی وعدہ خلافی کا جواز

مضمحل اس کے نہ آنے کے بہانے نکلے

میں تو خوشیوں کے اگاتا رہا پودے اکمل

اور ہر شاخ پہ زخموں کے خزانے نکلے


اکمل امام

No comments:

Post a Comment