مِرے وجود پہ پتھراؤ ہونے والا ہے
یہ شہر اب کسی ملبے میں سونے والا ہے
خموش رات ہے بچوں نے کی یہ سرگوشی
چلو اُدھر کو جدھر کچھ نہ ہونے والا ہے
بسر کریں گے کرائے کے شامیانے میں
مِرا مکان، مِری لاش بونے والا ہے
نشانہ اس کا تو انگشتِ لا الہٰ پہ ہے
وہ ایک تیر جو مجھ کو چبھونے والا ہے
بہت ہی تنگ ہے اس سرزمین کا دامن
سنا ہے شہر کا درویش رونے والا ہے
سنک رہی ہے گرانی عدو کے چہرے کی
وہ اک نگینے میں موتی پرونے والاہے
فضا میں نور کی بارش ہے گھپ اندھیرے میں
شکیب ایاز کوئی شعر ہونے والاہے
شکیب ایاز
No comments:
Post a Comment