یاد تیری جو سرِ شام رُلا دیتی ہے
یہ تو جلتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتی ہے
کر کے دریا کا دِوانہ کسی پیاسے کو یہ پیاس
ایک ہی لمحے میں موجوں میں بہا دیتی ہے
تم سے ملنے کے فقط ہم کو دِلاسے دے کر
یہ محبت ہمیِں ہر رات سُلا دیتی ہے
فاتحہ چپ ہے، مگر اے مِرے دلدار سنو
آنکھوں آنکھوں میں تمہیں بات بتا دیتی ہے
فاتحہ چوہدری
No comments:
Post a Comment