Thursday, 2 December 2021

جستجو منزل ادراک سے وابستہ ہے

 جستجو منزلِ ادراک سے وابستہ ہے

خاکِ درویش ابھی چاک سے وابستہ ہے

میری فطرت نہیں میں غیر کے رستے پہ چلوں

میری نسبت بھی میری ناک سے وابستہ ہے

وہ جو آئی تھی میرے سائیں کے قدموں کے تلے

میری ہستی تو اسی خاک سے وابستہ ہے

تُو کبھی روح سے انصاف نہیں کر سکتا

تیری درویشی تو پوشاک سے وابستہ ہے

تختۂ دار پہ چڑھ جائے گی سچ کی خاطر

یہ زباں، لہجۂ بے باک سے وابستہ ہے

ہوش والوں کو یہ حاصل نہیں ہوتی ہے میاں

یہ خوشی دیدۂنمناک سے وابستہ ہے

ہم زمیں پر نہیں چلتے کبھی تن کر طارق

دل یہاں ہے مگر افلاک سے وابستہ ہے


طارق عثمانی

No comments:

Post a Comment