سیداﷺ اک نظر
پیاس ہے
مالکا! حوضِ کوثر کے
اک بوند بھیجیں
کہ صدیوں کی یہ تشنگی مٹ سکے
سیداﷺ سوہنیا
آس ہے
آس بھی آپﷺ کی
ایک دیدار کی
سیداﷺ دید دیں
سیداﷺ
پیار ہے
پیار بھی آپﷺ سے
آپﷺ کی آل سے
پیار ہی پیار ہے
پیار دیں
سیداﷺ سوہنیا
بے بسی اب رُلانے لگی
بے کلی بھی ہمیں اب ستانے لگی ہے
مِرے پیاریا
عربیا، ڈھولنا
ہاتھ کو تھام لیں
اے مِرے سیداﷺ
اے خدا کی بنائی ہوئی نعمتوں سے
شناسائیاں دینے والے
مِرے شہنشاہا
اے طائف کے لوگوں سے پتھر بھی کھا کر
دعا دینے والے
اے میرے رحیما، کریما
مِرے سوہنیا، سیداﷺ صابرا
بس دعا کی طلب ہے
مِرے سوہنیا
اک نظر کی طلب ہے
ذرا ایک پل اپنا رخ اس طرف موڑ لیں
مسکرا دیں کہ آسان ہو زندگی
ہو کرم کی نظر
سیداﷺ اک نظر
مِرے سیداﷺ
اے بشیر النذیرا
بلالِؓ حبش کی عقیدت، محبت کے والی
مِرے ڈھولنا
اے مِرے عربیا
منجمد ہیں سبھی راستے
راہ دکھتی نہیں راہ میں
راہ بھی راہ سے ایسی بھٹکی ہوئی
کہ کسی اور بھی راہ سے رہ بدلنے کا
کوئی تصور بھی ممکن نہیں
سیداﷺ تھام لیں ہاتھ
راہوں کی سختی سے ہم کو نکالیں
یہ راہیں مسلسل ہی پیروں کو گھائل کیے جا رہی ہیں
مِرے سیداﷺ
ہاتھ تھامیں
کہ بیمارئ روح کو بھی شفا مل سکے
حبس آلود جذبوں کی شدت کو ٹھنڈی ہوا مل سکے
عربیا، ماہیا
ہاتھ تھامیں ذرا کہ یہ تاریک راہیں منور رہیں
آپؐ سے، آپؐ کی ذات سے
سیداﷺ
سیداﷺ اک نظر
زین شکیل
No comments:
Post a Comment