پھول چہرے پر وہ اشکوں کو مسلتی ہی رہی
آگ آہوں کی مگر من میں بھڑکتی ہی رہی
اک تبسم اس کی رعنائی سے کچھ کہتا رہا
اک ہنسی میرے لبوں پر بھی مہکتی ہی رہی
ریل کی سیٹی بجی، اور وہ جدا ہونے لگا
چیخ اک سینے میں دب کر پھر مچلتی ہی رہی
اس کی باتوں میں نشہ تھا سن کے سب حیران تھے
دیر تک بادِ صبا گلشن میں چلتی ہی رہی
عشق کے آزار یارو کس قدر سنگین تھے
جان پر ہر لمحہ آفت کوئی بنتی ہی رہی
خامشی سے بہہ رہا ہے جس طرح آبِ رواں
زندگی اپنی شہاب ایسے گزرتی ہی رہی
شہاب اللہ
No comments:
Post a Comment