Thursday, 2 December 2021

زندگی تیری طلب تھی تو زمانے دیکھے

 زندگی تیری طلب تھی تو زمانے دیکھے

مرتے مرتے کئی جینے کے بہانے دیکھے

حوصلہ تھا یا کرم ہو کہ وفاداری ہو

ہم نے الفت میں کئی خواب سہانے دیکھے

آنکھ سے جاری رہا اشکوں کا بہنا کیونکر

غم نے ٹھکرایا تو پھر زخم پرانے دیکھے

زخم پر زخم لگانے کی نہ عادت تھی اسے

میرے قاتل نے نئے روز نشانے دیکھے

آپ کا جرم نہیں ہم ہی خطا کر بیٹھے

دل نے بس چاہا تمہیں غم نے ٹھکانے دیکھے

ہم پہ الفت کی ہوئی ایسی عطائیں بالغ

جس طرف ڈھونڈ لیے غم کے خزانے دیکھے


عرفان میر 

No comments:

Post a Comment