Sunday, 2 January 2022

لذت لمس مر نہ جائے کہیں

 لذت لمس مر نہ جائے کہیں

پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

تجھ کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہا

اب یہ ضدی نظر نہ جائے کہیں

جنگ جاری ہے رشتے ناطوں میں

سب اثاثہ بکھر نہ جائے کہیں

خون میں تر بہ تر قبیلے ہیں

کھیل حد سے گزر نہ جائے کہیں

موت پر اعتبار ہے اپنا

وہ بھی اب کہ مکر نہ جائے کہیں

ہاتھ سینے پہ مرے رہنے دے

دل کی دھڑکن ٹھہر نہ جائے کہیں

روز جانے کی باتیں کرتا ہے

یار فاروق پر نہ جائے کہیں


فاروق رحمان

No comments:

Post a Comment