اس بحرِ بیکراں کے کنارے کھڑے ہوئے
ساحل بھی دیکھتا ہے مجھے ڈوبتے ہوئے
اچھوں کی کچھ کمی نہیں دنیا میں دوستو
ہم کو تمام عمر یہی شائبے ہوئے
پنجوں کو پھر نشاط میں چاٹا زبان سے
بلی نے اک پرند کے پر نوچتے ہوئے
باندھا جو میں نے عزم تِری بارگاہ کا
چکرا گیا یہ چرخ مجھے روکتے ہوئے
اک دن کُھلا، وہ نغمہ سرا آپ ہی تو تھے
شہ رگ سے بھی قریب گلے سے لگے ہوئے
سورج جو بھاگتا نظر آیا مدار میں
پیچھے چلی لہک کے زمیں دوڑتے ہوئے
شعیب افضال
No comments:
Post a Comment