بے بس کا نوحہ
مِرے بدن کو ہدف بنانا تمہارا مرغوب مشغلہ ہے
مِرے محافظ! چلاؤ گولی کہ میرا سینہ تنا ہوا ہے
تمہاری وردی کے تار میں ہے مِرے ہی کھلیان کی کمائی
مِری مشقت کا چاند تارا تمہاری دستار میں جڑا ہے
مِری ہی خلعت پہن کے بیٹھے ہو مسندوں پر
مِری ہی شمشیر آہنی ہے تمہاری طاقت
مِرے ہی خوشیوں پہ پلنے والو! مجھے ہی تاراج کر رہے ہو
نگارِ صبحِ چمن کی رنگت اُڑی ہوئی ہے
صبا مُسلسل گُریز پا ہے
نئے صحیفوں کے مُدعی بھی دروغ گو ہیں
بُریدہ شاخوں کے تن بدن پر خزاں کی پِپڑی جمی ہوئی ہے
شگفتِ گُل کے تمام موسم چمن میں آ کر پلٹ گئے ہیں
چہکتے لمحوں کے غول
بے دم، نزار ہونٹوں پہ کیسے اُتریں؟
رانا غضنفر عباس
No comments:
Post a Comment