اقرار
قسم سے، ہم تمہاری یاد کا تکیہ
سرہانے رکھ کے سوتے ہیں
ہماری آنکھ کے موتی
تمہارے نام کی مالا پروتے ہیں
قسم سے، چاند اور تارے
ہمارے ساتھ نم دیدہ سے سوتے ہیں
تمہاری سانس کی خوشبو
سے یہ غنچے مہکتے ہیں
قسم سے، بارشوں میں اب
تو ہم اندر ہی رہتے ہیں
سنہری وادیاں یا قاف کی
پریوں کے قصے ہوں
الف لیلیٰ کی باتیں ہوں
یا افسانوں کے حصے ہوں
قسم سے، اب نہیں بھاتے
تمہارا ذکر نہ ہو
اس جگہ پر ہم نہیں جاتے
تمہارے دیس سے خوشرنگ
پرندے جو بھی آتے ہیں
منڈیروں پر نہیں
ہم ان کو پلکوں پر بٹھاتے ہیں
قسم سے، اب تو مٹھی میں
کوئی جگنو نہیں رکھتے
قسم سے، اب کتابوں میں
کوئی تتلی نہیں رکھتے
قسم سے، ہم جو ہر اک
بات پر انکار کرتے ہیں
انا اور ضد کی اس دیوار
کو مسمار کرتے ہیں
ہمیں تم سے محبت ہے
لو ہم اقرار کرتے ہیں
شائستہ الیاس
No comments:
Post a Comment