کچھ اس طرح سے قلندر پہ عید گزری ہے
کہ آنسوؤں کے سمندر پہ عید گزری ہے
یوں تخت و تاج پہ خوشیاں سمیٹنے والو
کسی فقیر کی چادر پہ عید گزری ہے
مِرے رقیب سے پیغام لے کے آ قاصد
کہ کس طرح مِرے دلبر پہ عید گزری ہے
گناہ گار تھا اس کا تو میں نہ تھا قابل
زہے نصیب تِرے در پہ عید گزری ہے
فقط غریب کے گھر پر خوشی نہ تھی ثاقب
وگرنہ شہر میں گھر گھر پہ عید گزری ہے
اقبال ثاقب
No comments:
Post a Comment