Saturday, 1 January 2022

آنکھوں سے تیری یاد کے ہالے نہیں گئے

 آنکھوں سے تیری یاد کے ہالے نہیں گئے

ایسے دئیے ہیں زخم نرالے، نہیں گئے

چھیڑا جو ذکرِ حُسن رقیبوں نے بزم میں

تیری ہی بات، تیرے حوالے نہیں گئے

سنتے ہیں شام ہوتے ہی آتا ہے بام پر

شب کٹ چکی ہے جاگنے والے نہیں گئے

ہم تو تِری خوشی کے لیے ہی جدا ہوئے

ہم سے وہ تیرے حکم بھی ٹالے نہیں گئے

لمبی مسافتوں کی تھکن کا نہ مجھ سے پوچھ

کٹ کر گرے ہیں پاؤں، پہ چھالے نہیں گئے

رکھتا ہو ساری چیزوں کو جو احتیاط سے

کیوں اس سے ایک ہم ہی سنبھالے نہیں گئے

بیٹھے رہے، جنہیں وہ نکلنے کا کہہ چکا

محفل سے اس کی ہم تو نکالے نہیں گئے

رستہ تمہارا دیکھتے مدت ہوئی جنہیں

ان کی تو اب بھی آنکھ سے جالے نہیں گئے

جس نے دِیا جلایا ہو آندھی کی اوٹ میں

اس کے کبھی بھی گھر سے اُجالے نہیں گئے

خیرات میں جو غم تھے ملے، لگ گئے گلے

کھویا نہ ہوش، کاسے اُچھالے نہیں گئے

غم اس طرح ہوئے ہیں سبھی مجھ پہ مہرباں

جتنی بھی بار گھر سے نکالے نہیں گئے

شامل لہو ہو جس میں غریبوں کا بالخصوص

ایسے کبھی گلے میں نوالے نہیں گئے

جس جس کو علم تھا کہ صنم میکدے میں ہے

سب چل پڑے تو سوچنے والے نہیں گئے


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment