Sunday, 20 February 2022

تمہاری آنکھوں میں میرا چہرہ اتر رہا تھا

 بے نام محبت


تمہاری آنکھوں میں میرا چہرہ اتر رہا تھا

جو میں نے دیکھا تو میں نے سوچا

کہ میرا سادہ سا عام چہرہ

گلاب بن کر نکھر رہا تھا

تمہاری آنکھوں کی پتلیوں میں بکھر رہا تھا

تمہاری آنکھوں کے رتجگوں کو یہ پڑھ رہا تھا

یہ میرا چہرہ تمہارے لفظوں کو چھو کے خود کو

نہ جانے کیا کیا سمجھ رہا تھا

ہوا میں اڑتے ہوئے میں خود کو سنبھالتی کیا؟

تمہاری نظریں جو کر رہی تھیں سوال ان کو میں ٹالتی کیا؟

یہ سب محبت کے رنگ تھے جو ہمارے دل میں سما رہے تھے

وفا کی قیمت چکا رہے تھے

مگر یہ لمحے جو چند ہی تھے پلٹ رہے تھے

حقیقتوں میں سمٹ رہے تھے

کہ خواب پلکوں پہ رکھ کے کیسے جیا ہے کوئی؟

کہ دل میں لاکھوں عذاب رکھ کر رہا ہے کوئی؟

ہاں میرے چہرے کے خال و خد میں

جو تم نے دیکھے ہزار منظر

حیات کے بےشمار منظر

کہ جن میں ہر سو دکھائی دی ہے

کہیں پہ دہشت کہیں پہ وحشت

یہ تیر ایسے جو رک نہ پائے

کہ مفلسی کے کھلے دریچے

ہے کوئی جو بند کرنے آئے؟

یہ عشق اپنی جگہ مقدم

مگر یہ جیون کے سارے موسم

کہ جب تلک جی رہے ہیں

آخر گزارنے ہیں

کہ عشق، چاہت سے آگے بڑھ کر

یہ الجھے رستے سنوارنے  ہیں


آئرین فرحت

No comments:

Post a Comment