سنو! سنو! مِرا قصہ ابھی تمام نہیں
تڑپ اٹھو گے جہاں تم وہ یہ مقام نہیں
بلائے جان ہے خالد! سکوں پیام نہیں
جو میکدے میں نہ گزرے وہ شام، شام نہیں
مجھے حضور کی چشمِ کرم کا رونا ہے
مجھے حضور کے عہدِ کرم سے کام نہیں
ابھی ہے تجھ پہ مسلط گمان پابندی
کہ تیری چال میں کیفیت خرام نہیں
یہ ایک جرعۂ مے اس کی حیثیت کیا ہے
جناب شیخ بھی پی لیں تو کچھ حرام نہیں
چھپا کے رکھیں متاع نظر کو سینوں میں
خدا گواہ یہ اہل نظر کا کام نہیں
تِری نگاہِ کرم غیر مستقل ہی رہی
یہ اور بات ہے میرا جنون خام نہیں
نہیں کہ سرحد ادراک ہے جنوں کے لیے
کچھ اس سے آگے ہے یہ بھی مِرا مقام نہیں
خالد علیگ
No comments:
Post a Comment