Sunday, 20 February 2022

اک عمر سے غم ہیں مری جاگیر مسلسل

 اک عمر سے غم ہیں مِری جاگیر مسلسل

تقدیر سے ہاری مِری تدبیر مسلسل

ہوتی ہے مِرے جرم کی تشہیرمسلسل

اور لگتی ہے تعزیر پہ تعزیر مسلسل

میں وقت کے ہاتھوں میں کھلونے کی طرح ہوں

اور، کھیلی ہے مجھ سے مِری تقدیر مسلسل

چھن چھن کی صائیں مجھے سونے نہیں دیتیں

ہے کون ہلاتا مِری زنجیر مسلسل

میں رہ میں پڑے گول سے کنکر کے مساوی

ٹھوکر پہ جسے رکھتے ہیں رہگیر مسلسل

محدود رہے خواب مِرے خواب تلک بس

جھوٹی پڑی ہر خواب کی تعمیر مسلسل

دُکھ ہے کہ وہی لوگ مٹاتے رہے جن کا

حق تھا کہ اٹھاتے مِری تعمیر مسلسل

خوددار اٹھاتے ہیں یہاں روزخسارے

اور لطف اٹھاتے ہیں یہ کفگیر مسلسل

اک عمر ہوئی رنج و آلام کو لکھتے

اب مجھ سے نہیں ہوتے یہ تحریر مسلسل

جس سمت سے گل پاشی کی امید تھی الفی

آتے ہیں اسی اور سے یہ تیر مسلسل


افتخار حسین الفی

No comments:

Post a Comment