جب تلک کتراؤ گے تم پیار کے اظہار سے
تب تلک ٹکرائیں گی آہیں در و دیوار سے
دل چرانا تھا جسے، وہ دل چرا کر لے گیا
فائدہ کچھ بھی نہیں اب حجت و تکرار سے
آج بھی چلمن میں چھپ کر اے مِرے رشکِ قمر
کھیلتی ہے تیری نظریں میرے دل کے تار سے
اس طرح گھٹ گھٹ کے مرنے سے تو بہتر ہے جناب
سر مِرا تن سے جدا کر دے کوئی تلوار سے
دیکھنے آنا تماشہ تم بھی میری موت کا
میں تمہیں آواز دوں گا مرتے مرتے دار سے
عشق کی شمع جلاؤ اپنے دل کے طاق میں
یہ گزارش ہے مِری ہر صاحبِ کردار سے
مدتوں کے بعد سوئی ہیں تمنائیں مِری
مت جگاؤ تم اسے پازیب کی جھنکار سے
کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے اس کی نظروں سے اسد
پیار کرتا ہے مگر وہ پھر بھی پردہ دار سے
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment