ہے کاروانِ شوق بہاروں کے سامنے
اترا ہے قافلہ یہ نظاروں کے سامنے
یا رب مِرے چمن کی، فضائے چمن کی خیر
مہکے ہوئے ہیں پھول شراروں کے سامنے
آیا وہ خوش جمال سرِ بزم اس طرح
نکلا ہو جیسے چاند ستاروں کے سامنے
ہم ہیں کہ چاہتے ہیں نہ دیکھے کوئی تمہیں
تم ہو کہ پھِر رہے ہو ہزاروں کے سامنے
گاڑی ہمارے پیار کی ہر وقت ہے رواں
رکتی نہیں یہ سرخ اشاروں کے سامنے
یوں تو پڑھا لکھا ہے مگر پیٹ کے لیے
وہ پھول بیچتا ہر مزاروں کے سامنے
کیا خوب فتح پائی شہادت کی موت نے
خنجر نگوں ہے خون کی دھاروں کے سامنے
جی بھر کے رو لو گوشۂ خلوت میں بیٹھ کر
پھِر مسکراتے رہنا ہے یاروں کے سامنے
ہو جائے اس طرف بھی کبھی نظرِ التفات
ہم بھی کھڑے ہیں راہگزاروں کے سامنے
جانِ وفا چھِڑکتے ہو زخموں پہ کیوں نمک
کیوں غمزدہ ہو درد کے ماروں کے سامنے
دوڑا کے ہم نے اسپِ سخن پائی خُوب داد
میدانِ فن کے شاہ سواروں کے سامنے
زاہِد پسِ حیات ہو بے سُدھ پڑے ہوئے
کیوں چپ ہو آج اپنے ہی پیاروں کے سامنے
زاہد بخاری
No comments:
Post a Comment