میرے اشعار میں رونق مِری تنہائی سے ہے
غم کو سہنے کی سکت غم کی شناسائی سے ہے
تُو کہیں بھی نہیں موجود مگر دل میرا
اب بھی آباد تِری حوصلہ افزائی سے ہے
ٹوٹتے ٹوٹتے یکجا بھی تو ہو جاتے ہیں لوگ
یہ کرشمہ بھی محبت کی توانائی سے ہے
تجربہ چاہے لسانی ہو کہ جدت کا فروغ
شعر کا حسن مگر لفظ کی گہرائی سے ہے
میں تصوف کی ظہور ایسی منازل پر ہوں
پارسائی کا تعلق جہاں رسوائی سے ہے
ظہور چوہان
No comments:
Post a Comment