چاہا نہ ان کو ہوتا دن رات اور ہوتے
سنتے نہ بات سب کی، حالات اور ہوتے
دیتے صدا بھی کس کو، کہتے کسی سے کیا کچھ
سادہ دلوں کے جاناں جذبات اور ہوتے
باتیں وصال کی بھی ٹھہری ہیں خواب، یارو
اس ہجر کے علاوہ صدمات اور ہوتے
نغمے دکھی نہ سنتے، لکھتے نہ گیت کوئی
لیکن لبوں پر اپنے نغمات اور ہوتے
مشکل گھڑی میں تم سے میں نے دلاسا چاہا
ممکن تھا ساتھ میرے حضرات اور ہوتے
کی پتھروں کی پوجا اک دکھ یہی ہے لاحق
کرتے خدا کی طاعت درجات اور ہوتے
اک ہجر ہی کا سایا کاشف پڑا ہے پیچھے
اس راہ میں وگرنہ جنات اور ہوتے
کاشف لاشاری
No comments:
Post a Comment