Thursday, 24 March 2022

میرے احباب مرے پاس نہ آئے ہائے

 میرے احباب مِرے پاس نہ آئے، ہائے

ساتھ دیتے رہے کچھ لوگ پرائے ہائے

مجھ کو خالق نے تھا کچھ نام سکھا کر بھیجا

پھر زمانے نے جو اسباق سکھائے ہائے

کوئی پوچھے تو درختوں سے کڑی دھوپ کا دکھ

کس قدر قیمتی ہوتے ہیں یہ سائے ہائے

آندھیوں کا مِرے آنگن سے گزر رہتا ہے 

میں نے اس خوف سے پودے نہ اگائے ہائے

ملنا دشوار ہوا آ کے بچھڑ جائیں ہم

رو پڑا مجھ کو وہ دیتے ہوئے رائے، ہائے

وقت پلٹے مِرے بچپن کی طرف کاش کبھی

اور مِری ماں مجھے گودی میں سلائے ہائے

ان کے جانے سے بہاریں بھی چلی جاتی ہیں

پنچھیوں کو نہ کوئی یار اڑائے، ہائے


صداقت طاہر

No comments:

Post a Comment