Tuesday, 22 March 2022

چل جھوم گھوم اور شراروں میں رقص کر

 چل جھوم گھوم اور شراروں میں رقص کر

پھولوں کو چھوڑ آ کبھی خاروں میں رقص کر

محبوب سے وصال کی حسرت جو دل میں ہے

پلکوں کی چلمنوں سے اشاروں میں رقص کر

کل کیا پتہ نصیب خزاؤں کی زد میں ہو

پنچھی سا مست ہو کے بہاروں میں رقص کر

مفلس نے پھونک کر کہا خود اپنی سانس سے

اب میرا رزق بن تُو غباروں میں رقص کر

غربت کے مارے سارے یہ اپنے ھی لوگ ہیں

دیوانہ وار آج بے چاروں میں رقص کر

موجِ سخن میں مشقِ سخن ہے عروج پر

کچھ لکھ لکھا سخن کے ستاروں میں رقص کر

رقاص کی طرح سے مسلسل دھمال ڈال

سب دکھ بھلا کے جان سے پیاروں میں رقص کر

سُر، تال، لَے سمجھ نہیں آتی تو خیر ہے

پازیب باندھ، ناچ حصاروں میں رقص کر

طاہر! اداسیوں سے نکل، چل سنبھل ذرا

زندہ دلی کو اوڑھ کے یاروں میں رقص کر


طاہر مسعود 

No comments:

Post a Comment