میں بھی ایدھی ہوں
دنیا میں اک آیا تھا عبدالستار ایدھی
انسانیت کو دکھا گیا وہ اک راہ سیدھی
تھا تو وہ ایک بندہ ہی، پر بندہ نواز
جھیل گیا خوشی سے وہ زندگی کے نشیب و فراز
مشکل وقت میں ہم نے اس کو سب سے آگے پایا
سب لوگوں کی خدمت کی بن کر ان کی دایا
ایک اکیلا شخص تھا جس نے اپنا فرض نبھایا
ذات پات اور رنگ ونسل کے فرق کو مٹایا
غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کا بن گیا وہ سہارہ
ایمبولینس سروس سے اپنی لگایا خدمت کا نعرہ
سب کچھ عطیہ کر کے بھی اس کو چین نہ آیا
مرتے وقت بھی اس کو محض ہمارا خیال ہی آیا
آنکھیں بھی وہ چھوڑ گیا اس دنیا میں اپنی
اس کی کہانی خدمت ہے حقیقت پر مبنی
اس کی ذات کو دیکھ کر پھر کیوں نہ میں یہ کہوں
میں بھی ایدھی ہوں، ہاں میں بھی ایدھی ہوں
اویس رشید
No comments:
Post a Comment